| منہاجينز | برقي گروہ | تبصرہ و تجاويز | English |

تلاش :
سرورق | کالج بارے | سرگرمياں | اکيڈمک | داخلے | فيکلٹي | نماياں طلباء | رابطہ
       سرورق
ہمارے بارے    
چیئرمین    
پیغام پرنسپل    
عظیم مقاصد    
اساتذہ کرام    
نظام تعلیم    
اخلاقی و روحانی تربیت    
انتظامی عہدیداران    
قواعد و ضوابط    
فیس    
نظم و نسق    
بزم منہاج    
سہولیات    
اعزازات    
تابناک مستقبل    
خط و کتابت کورس    
بزم منہاج کارکردگی سیشن 08    
       منہاجینز
فورم    
نمایاں منہاجینز    
بیرون ملک    
مرکزی سیکرٹریٹ    
تعلیمی منصوبہ    
تصانیف    
ویب سائٹ    

Hits: 397,267

شريعہ کالج - ہمارے بارے

ہمارے بارے  

یہ ایک مسلّمہ تاریخی حقیقت ہے کہ امت مسلمہ نے تقریباً بارہ سو سال کا طویل عرصہ دنیا پر حکمرانی کی۔ جس کا واحد سبب اس کا علمی تفوق تھا۔ مسلمانوں کے اس سیاسی وثقافتی عروج کا آغاز معلم انسانیت حضور نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قائم کردہ صفہ یونیورسٹی سے ہوا جس نے عرب جیسی اُمّی اور جاہل قوم کو علم وفضل کی دولت کے ذریعے عظمت ورفعت کے بام عروج تک پہنچایا۔ اسی صُفّہ یونیورسٹی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مسلمانوں نے بغداد، قاہرہ، سمرقند، بخارا، سپین، تیونس، مراکش، دمشق کے علاوہ بلاد افریقہ اور ہند میں تعلیم وتربیت کی عظیم اور شاندار درسگاہیں قائم کیں اور اقوام عالم کی امامت کے منصب پر فائز ہوئی۔ مسلمانوں کے اسی عظیم تعلیمی ورثے نے یورپ، روس، امریکہ اور دیگر اقوام عالم کو فکر وتدبر کی شاہراہ پر گامزن کیا ہے۔ سیاسی زوال کے بعد مغربی استعمار نے مسلمانوں کے نظام تعلیم کو خاص طور پر اپنا ہدف بنایا۔ نتیجتاً دینی اور دنیوی تعلیم کو جداگانہ حیثیت دے دی گئی اور پورا نظام تعلیم ثنویت کا شکار ہو کر بانجھ ہوگیا۔ دینی تعلیم مسجدوں اور مدرسوں تک محدود ہوکر رہ گئی اور دنیوی تعلیم کا دائرہ کار کالجز اور یونیورسٹیز تک مقید ہو کر رہ گیا۔ اسی ثنویت نے ملت اسلامیہ کو فکری انتشار اور علمی زوال سے دوچار کیا اور ان پر ترقی کی راہیں مسدود ہوگئیں۔ استعمار سے آزادی حاصل کرنے کے بعد اکثر مسلم ممالک میں احیائے اسلام کی کاوشیں شروع ہوئیں تو علمی محاذ پر بھی مختلف اداروں نے قابل قدر خدمات سرانجام دیں۔ اسی سلسلہ میں تحریک منہاج القرآن نے پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی سرپرستی میں جن میدانوں میں مسلمانوں کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیا تعلیم کا شعبہ ان میں بطور خاص قابل ذکر ہے۔ منہاج القرآن کے تعلیمی منصوبہ جات میں سب سے اہم منہاج یونیورسٹی کا قیام ہے۔

تحریک منہاج القرآن کے عظیم تعلیمی منصوبے کی بنیاد 18 ستمبر 1986ء کو علوم وفنون اور تہذیب و ثقافت کے مرکز لاہور میں جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن کی صورت میں رکھی گئی۔ لاہور بورڈ سے الحاق شدہ یہ ادارہ بعد ازاں کالج آف شریعہ کے نام سے موسوم ہوا اور اب منہاج یونیورسٹی لاہور (Chartered by Govt of Punjab, Act XII of 2005) کا اولین کالج ہے۔ اس کالج میں علوم شریعہ اور عصریہ کی تعلیم کے ساتھ ساتھ امتیازی نظم ونسق اور اخلاقی اور روحانی تربیت کا منفرد اہتمام کیاجاتا ہے۔ کالج ہذا کا قیام درج ذیل مقاصد کے پیش نظر عمل میں لایا گیا۔

  1. نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و اطاعت کی ایسی تعلیم جو امت مسلمہ میں حقیقی وحدت کی بنیاد فراہم کر دے۔

  2. نسل نو کی علمی و عملی، فکری و نظریاتی اور اخلاقی و روحانی تربیت کا ایسا موثر اہتمام جس سے وہ ملک و ملت کی مخلصانہ خدمت کے اہل ہو سکے۔
  3. نوجوان نسل کی ایسی تعلیم جس کی بدولت وہ قرآن وحدیث، فقہ اور دیگر علوم شریعہ کے تحقیقی مطالعہ اور تقابل ادیان کی بنیاد پر دور حاضر کے مسائل اور تقاضوں کا حل پیش کرسکے۔

  4. طلبہ کو تنگ نظری، تعصب، فرقہ پرستی اورانتہا پسندی کی محدود سوچ سے بالاتر کر کے انہیں اس قابل بنانا کہ وہ امت مسلمہ کے عالم گیر اتحاد کے لئے اہم کردار ادا کر سکیں۔

  5. طلبہ کی ایسی اخلاقی و روحانی تربیت کر نا جس کے ذریعے وہ تعمیر شخصیت، تقوی، برداشت اور وسعت نظری کے حامل ہو سکیں۔

  6. طلبہ کو جدید علوم سے بہرہ ور کرنا تاکہ وہ جدید پڑھے لکھے نوجوان ذہن کو اسلام کی حقانیت سے روشناس کر سکیں اور کسی بھی شعبہ زندگی میں اہم کردار ادا کر سکیں۔

منہاج یونیورسٹی کا ارتقائی سفر

110 کنال کے وسیع رقبے پر منہاج یونیورسٹی کے پھیلے ہوئے اولڈ اور نیو کیمپس کا سنگ بنیاد جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن لاہور کے نام سے 1986ء میں رکھا گیا جب ادارہ منہاج القرآن کی مرکزی باڈی نے اس عظیم تعلیمی منصوبے کو حتمی شکل دی اور فروغ علم کے عظیم مشن کے حصول کی خاطر وسیع رقبہ اراضی حاصل کیا گیا۔

الحمد للہ تعالی یہ دانش گاہ اپنے قیام کے چند سال بعد ہی اپنے منفرد و مؤثر نظام تعلیم و تربیت، اعلیٰ کارکردگی اور امتیازی نظم و نسق کی بدولت یونیورسٹی کی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ اس یونیورسٹی کے مختلف ڈیپارٹمنٹس علوم اسلامیہ عصریہ، علوم شریعہ اور جدید فنی وسائنسی علوم کی تعلیم و ترویج کا اہم فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ کامرس، کمپیوٹر سائنسز، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مینجمنٹ سائنسز، بیسک سائنسز اور سوشل سائنسز میں فروغ تعلیم کا سلسلہ 1995ء میں شروع ہوا اور چند سال کے مختصر عرصہ میں منہاج یونیورسٹی اس میدان میں ایک بڑا نام بن چکا ہے۔

عالمی اداروں سے الحاق ( Affiliations)

کامرس، کمپیوٹر سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے کورسز کا الحاق پنجاب یونیورسٹی سے ہے جبکہ علوم اسلامی اور علوم شریعہ میں کالج آف شریعہ کی ڈگری (شہادۃ العالمیۃ) کو 1992ء سے نہ صرف ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) سے بطور ایم اے اسلامیات وعربی کی ڈگری کی حیثیت سے منظوری حاصل ہے بلکہ مصر کی بین الاقوامی الازہر یونیورسٹی سے Equivalence حاصل ہے۔ مزید یہ کہ بغداد کی مستنصریہ یونیورسٹی نے منہاج یونیورسٹی کی شہادت العالمیہ کو مساوی درجہ دیتے ہوئے مستنصریہ میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے تسلیم کیا ہے۔ ملکی اور بین الاقوامی یونیورسٹیز کے ساتھ منہاج یونیورسٹی کی Affiliations/ Collaboration اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس کا نظام تعلیم اعلیٰ اور معیاری ہے۔

چیئرمین بورڈ آف گورنرز منہاج یونیورسٹی، تحریک منہاج القرآن کے سرپرست اعلیٰ پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری ہیں جبکہ وائس چانسلر کی ذمہ داریاں ملک کے نامور ماہر تعلیم محترم ڈاکٹر محمد نذیر رومانی باحسن خوبی سرانجام دے رہے ہیں۔

الحمد للہ یہ امر باعث مسرت وافتخار ہے کہ ادارہ ہذا کے سینکڑوں فارغ التحصیل طلبہ ملک وملت کی خدمت میں شب وروز کوشاں ہیں۔ محکمہ تعلیم، پولیس، میڈیا، قانون، بینکنگ، افواج پاکستان اور دیگر اداروں میں اپنی خدمات بحسن وخوبی سرانجام دے رہے ہیں۔ علاوہ ازیں بیرون ملک تحریک منہاج القرآن کے زیر اہتمام قائم شدہ اسلامک سنٹرز اور تعلیمی مراکز میں بھی اہم خدمات سرانجام د ے رہے ہیں نیز دروس قرآن وحدیث اور خطبات جمعہ کے ذریعے عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق لوگوں تک دین اسلام کا عالمگیر پیغام پہنچانے میں اہم کردار ادا کرہے ہیں۔


تازہ سرگرمياں  

کالج آف شریعہ اینڈ اسلامک سائنسز میں میٹرک پاس طلبہ کے لئے علوم شریعہ مع ایف اے کے داخلے جاری ہیں۔...

منہاج یونیورسٹی لاہور کے کالج آف شریعہ میں فائنل ائیر کے طالب علم اور منہاج القرآن کی نظامت میڈیا کے سابق رکن محمد نواز شریف کے والد گرامی ...

منہاج یونیورسٹی کے کالج آف شریعہ کے گریجوایٹ خواجہ جاوید کریم ولد خواجہ عبدالکریم انتقال کر گئے ہیں۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون۔) خواجہ جاو...

تلاش منہاجينز :  - 1991 - 1992 - 1994 - 1995 - 1996 - 1997 - 1998 - 1999 - 2000 - 2001 - 2002 - 2003 - 2004
کالج بارے | منہاجينز | تبصرہ و تجاويز | برقي گروہ | رابطہ
Copyright © 2001 - 2010 - All Rights Reserved
Designed and Developed By: Minhaj Internet Bureau, Lahore Pakistan